ابنا: تحریک آزادی کایہ سلسلہ صرف، لیبیااور بحرین کوہی نہيں بلکہ پورےخطہ عرب کواپنی گرفت میں لیتاجارہاہے، وہ چاہےلیبیاہویابحرین ، یمن ہویاسعودی عرب ، اردن ہویاکویت کم وبیش تمام آمروں کےچہروں پرہوائياں اڑ رہی ہیں اور یہی وجہ ہےکہ کوئي اگرتشدد اوربربریت سےکام لےرہاہے توکسی نےظلم و زورآزمائی سےتھک ہارکراقلیت کے حقوق کوپامال کرتےہوئےاکثریتی فرقےکےلئےاپنےخزانوں کامنھ کھول دیاہے۔جہاں ایک طرف لیبیاميں قذافی اوربحرین میں الخلیفہ خاندان نےمظاہرین پرمظالم کےپہاڑتوزناشروع کردیئے،ظلم وبربریت کی انتہاکردی اوراپنےہی عوام کےخون کی ندیاں بہادی ہیں وہیں، سعودی عرب نےاقلیت کوکچلنےکےساتھ ہی اکثریتی فرقےکےلئےخزانوں کےدہانےکھول دیئےہيں تاکہ کسی طرح امریکی سامراج کی کٹھ پتلی حکومت کاسلسلہ جاری رہے۔لیبیااوربحرین میں ہزاروں افراد کی موت کےبعد بھی تحریک آزادی پورےشباب پرہے اورعوام اپنےبرحق مطالبات پرڈٹےہوئےہيں۔ بحرین میں حکومت مخالف عوامی احتجاج بدستور جاری ہے مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے استعفے تک اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اللؤلؤةاسکوائر پرلاکھوں بحرینیوں نے مظاہرہ کرکے حکومت کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ یاد رہے کہ بحرین میں گذشتہ چودہ فروری سے حکومت مخالف احتجاجی مظاہررے جاری ہیں ۔ تازہ ترین احتجاجی مظاہروں میں شرکاء اپنے ہاتھوں میں بحرینی سیکورٹی فورسز اور فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے جوانوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے اور شہداء کے خون سے عہد وپیمان کررہے تھے کہ حکومت کی سرنگونی تک احتجاجی مظاہرے جاری رہيں گے ۔ جہاں ایک طرف بحرین میں جاری مظاہروں میں مزیدشدت آگئی ہے وہیں لیبیاکےکئي شہرآزادی کےمتوالوں کےکنٹرول میں آچکےہیں اور شہربن غازی میں توانقلابیوں نےفتح کاجشن بھی مناناشروع کردیاہے۔ مصراتہ اور زوارہ پربھی انقلابیوں کاکنٹرول ہوچکاہے اور قذافی کااقتدار اب صرف دارالحکومت طرابلس تک محدود ہوکررہ گیاہے۔جبکہ طرابلس میں بھی مظاہرین زبردست اجحاج کررہےہيں اور قذافی کےغیرملکی کرائےکےقاتلوں نےمظاہرین پراندھا دھند فائرنگ کی ہے جس میں سیکڑوں لوگ جاں بحق اورزخمی ہوئےہيں ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہےکہ کیا پورےخطہ عرب میں عوامی اکثریت صرف جمہوریت کےلئے سڑکوں پرنکل آئی ہے اورسالہا سال سےمسند اقتدارپربراج مان آمروں اورڈکٹیٹروں کاتخت وتاج چھین لیناچاہتی ہے اورخود حکومت واقتدار کامزہ لوٹناچاہتی ہے یااس کےاصلی اسباب وعلل ان حکومتوں کاغاصب وجابر اورآمر ہونےکےساتھ ہی کٹھ پتلی اور مغربی بازيگروں کابازیچہ اطفال ہونابھی ہے جنھوں نےمختلف نام سےہمیشہ قوموں کےحقوق کوپامال کیا، ان ممالک پرغاصبانہ قبضہ کیااور ان کےقومی ذخائرلوٹے اور پھراپنےمفاد کےتحفظ کےلئے آمروں کوکٹھ پتلی بناکر چھوڑگئے یہ توکسی سےبھی ڈھکاچھپانہيں ہے کہ مغربی ممالک نےباری باری سےقدرتی ذخائرسےمالامال مشرق وسطی کولوٹا اوران کےقومی وسائل وذخائر کی بندربانٹ کی ۔سیاسی امورکےماہرتجزیہ کار تواس بات پرمتفق ہيں کہ مشرق وسطی بالخصوص خطہ عرب میں زور شور سےشروع ہونےوالی تحریک آزادی کےاسباب صرف معاشی وسیاسی نہيں بلکہ وہ تمام حقوق ہيں جن پرموجودہ آمروں نےبرس ہا برس سےقبضہ کررکھاہے اورسامراج کی مدد سے اس قبضےکوطول دیتےجارہےہيں لیکن موجودہ حالات سےپتہ چلتاہےکہ عوامی طوفان کےسامنےآمریت کےیہ سلسلےاب زیادہ دن تک چلنےوالےنہيں ہيں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110